احادیث میں آتا ہے کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے سب سے پہلے شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ورغلا کر شرک میں مبتلا کر ے اگر وہ اس میں ناکام ہوتا ہے تو پھر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بدعت میں مبتلا کرے اگر اس میں بھی اس کو ذلت اٹھانی پڑے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کبیرہ گناہوں میں مبتلا کر دے اگر انسان اس سے بھی بچ جاتا ہے تو شیطان کوشش کرتا ہے صغیرہ گناہوں میں انسان کو لگا دے لیکن اگر انسان اس سے بھی بچ جاتا ہے تو پھر شیطان انسان کو مباح چیزوں کے اندر لگتا ہے گوہ کہ مباح چیزوں میں لگنے میں کوئی گناہ نہیں ہے لیکن نیک اعمال سے دور رکھتا ہے لیکن اگر انسان اس کی اس چال کے میں بھی نہ آئے تو پھر ایسا طریقہ اختیار کرتا ہے کہ جس سے تقریباً کوئی نہیں بچتا وہ یہ کہ آپ کو زیادہ اہم چیزوں سے نکال کر اہم چیزوں میں لگتا ہے مثال کے طور پر تہجد کے وقت تہجد کی نماز پڑھنا سب سے اہم اور افضل عبادت ہے لیکن اگر کوئی طالب علم ہے شیطان اس کو مطالعہ یا دیگر کسی کا میں مصروف رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو شیطان کی چال بازیوں اور بہکاوے سے بچائے ۔
کاتب: محمد اُسید